پیغمبر اسلام حسنین کریمین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے:مولانا شعیب مصباحی

  • تنظیم بریلوی علمائے اہل سنت کے زیر اہتمام بابوپوروہ میں ذکر شمع کربلا و عرس مفتیُ اعظم ہند منعقد



کانپور 15 ستمبر:قرآن مقدس میں ارشاد باری ہے اے محبوب آپ فرماؤ کہ اس پر میں تم سے بدلہ نہیں مانگتا سوائے میری اہل بیت اور قرابت والوں کی محبت کے حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرماتے ہوئے کہا اے لوگوں میں تمہارے درمیان دو بہت ہی وزنی چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں 1 کتاب جسمیں ہدایت و روشنی (بس تم اللہ کی کتاب کو پکڑ لو اور اسے مضبوطی سے تھام لو) 2 میری اہل بیت میں تم کو اہل بیت کے سلسلہ میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں (ان الفاظ کو سرکار نے 3 بار ادا فرمایا) ان خیالات کا اظہار تنظیم بریلوی علمائے اہل سنت کے زیر اہتمام بابوپوروہ کے محمدی میدان میں ہوئے ذکر شمع کربلا و عرس مفتیُ اعظم میں اناؤ سے آئے مدرسہ اہل سنت منظر اسلام کے پرنسپل مولانا محمد شعیب مصباحی نے کیا تنظیم کے سرپرست ابو الحسنات حضرت علامہ مفتی ممتاز عالم مصباحی کء سرپرستی و حافظ و قاری سید محمد فیصل جعفری کی صدارت میں ہوئے جلسہ کو مولانا نے مزید فرمایا کہ رسول ہاشمی علیہ السلام حضرات حسنین کریمین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے کبھی اپنے مبارک کاندھوں پر بیٹھا لیتے کبھی انکے لبوں کے بوسہ لیتے بلکہ آپ ان شہزادوں کو اکثر سونگھا کرتے اور فرماتے یہ جنت کے دو پھول ہیں اور ان سے مجھے جنت کی خوشبو ملتی ہے حسنین کریمین سے حضور نے خود بھی محبت فرمائی اور لوگوں کو اسکی تلقین بھی فرمائی ارشاد ہوتا ہے کہ جس نے ان دونوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی ارشاد باری و ارشاد رسول کا تقاضہ تو یہ تھا کہ جماعت صحابہ سے لیکر قیامت تک کہ مسلمان اہل بیت کی محبت و کرامات کا پورا پورا لحاظ رکھتے لیکن ازلی بد بختی انسان سے وہ کام کرا دیتی ہے کہ دنیا و آخرت کی رسوائی اسکا مقدر ہو جایا کرتی ہے یزید اور اسکا گروہ انھیں بد بختوں اور لعینوں میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے چند دنوں کی بے لذت حکومت کی لالچ میں اپنی آخرت اور دنیا کی زندگی کو تباہ و برباد کر لیا یزید کی نامزد لعنت متفق علیہ مسُلہ ہے اسمیں کسی کا کوئی اختلاف نہیں بلکہ کچھ ائمہ نے اسے کافر بھی کہا ہے حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ رسول کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جو ظلم کرتے ہوئے اہل مدینہ کو ڈرائے اس پر اللہ کی تمام فرشتوں کی اور ساری امت کی لعنت ایسے شخص کا اللہ نہ فرض قبول فرماتا ہے نہ نفل تنظیم کے ناظم نشرو اشاعت مولانا محمد حسان قادری نے مفتیُ اعظم ہند کی کراماتوں کا ذکر کیا اس سے قبل جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے قاری تنویر نظامی نے کیا اور نظامت کے فرائض حافظ ذبیر قادری نے انجام دئے قاری عبد العلیم بلرامپوری،حسان علی رضوی،محمد نعیم چشتی اور محمد تمجید نے بارگاہ رسالت مآب میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا جلسہ صلاة و سلام و دعا کے ساتھ اختتام پزید ہوا بعدہُ جلسہ حاضرین میں شیرنی تقسیم کی گئی مہمان خصوصی مولانا محمد علی جوہر فینس ایسوسی ایشن کے قومی صدر حیات ظفر ہاشمی رہے شرکاء میں جاوید محمد خاں،محمد آصف قادری،شہاب الدین رضا،محمد محسن،سید شعبان،حافظ محمد فضیل،حافظ محمد توقیر،محمد توقیر،محمد فرید،محمد اظہر،محمد مونس،غلام وارث،محمد ارشاد،صابر علی وغیرہ لوگ موجود تھے!